سورۃ يوسف
بسم الله الرحمن الرحيم ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲)
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لئے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یاد کرو جب یوسف نے اپنے باپ(ف۴) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)
قَالَ يَا بُنَيَّ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا اے میرے بچّے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف۶)کہ وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کُھلا دشمن ہے (ف۸)
وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَعَلَى آلِ يَعْقُوبَ كَمَا أَتَمَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اسی طرح تجھے تیرا رب چُن لے گا (ف۹) اورتجھے باتوں کا انجام نکالنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق پر پوری کی(ف۱۲)بیشک تیرا رب علم و حکمت والاہے
لَّقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِّلسَّائِلِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں(ف۱۴)
إِذْ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    جب بولے(ف۱۵)کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی(ف۱۶) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں(ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحۃً ان کی محبّت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)
اقْتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)
قَالَ قَآئِلٌ مَّنْهُمْ لاَ تَقْتُلُواْ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنو یں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آ کر لے جائے (ف۲۴) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)
قَالُواْ يَا أَبَانَا مَا لَكَ لاَ تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اے ہمارے باپ آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معاملے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے (ف۲۶) اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں (ف۲۷)
قَالَ إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُواْ بِهِ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بے خبر رہو (ف۳۰)
قَالُواْ لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَّخَاسِرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں(ف۳۱)
فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِ وَأَجْمَعُواْ أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـذَا وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳۴) کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳۶)
وَجَاؤُواْ أَبَاهُمْ عِشَاء يَبْكُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے آ ئے (ف۳۷)
قَالُواْ يَا أَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لِّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچّے ہوں (ف۳۹)
وَجَآؤُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اس کے کُر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف۴۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف۴۱) تو صبر اچھا اور اللّٰہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو (ف۴۲)
وَجَاءتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُواْ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَى دَلْوَهُ قَالَ يَا بُشْرَى هَـذَا غُلاَمٌ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً وَاللّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور ایک قافلہ آیا (ف۴۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف۴۴) تو اس نے اپنا ڈول ڈالا(ف۴۵)بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف۴۶) اور اللّٰہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف۴۷) اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف۴۸)
وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِن مِّصْرَ لاِمْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَكَذَلِكَ مَكَّنِّا لِيُوسُفَ فِي الأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف۴۹) انہیں عزت سے رکھ(ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے(ف۵۱)یا ان کو ہم بیٹا بنالیں(ف۵۲)اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ دیا اور اسلئے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں(ف۵۳)اور اللّٰہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور جب اپنی پوری قوّت کو پہنچا (ف۵۴) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صِلہ دیتے ہیں نیکوں کو
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور وہ جس عورت (ف۵۶) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آ پا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردئیے (ف۵۸)اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹)کہا اللّٰہ کی پناہ (ف۶۰)وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف۶۱) بیشک ظالموں کا بَھلا نہیں ہوتا
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلا أَن رَّأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاء إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف۶۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں(ف۶۳)بیشک وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں ہے(ف۶۴)
وَاسُتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاء مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوَءًا إِلاَّ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے(ف۶۵)اور عورت نے اس کا کُر تا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں(ف۶۶) دروازے کے پاس مِلا (ف۶۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف۶۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف۶۹)
قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الكَاذِبِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کُر تا آ گے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّادِقِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اگر ان کا کُر تا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے (ف۷۳)
فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب عزیز نے اس کا کُر تا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷۴) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرترہے بیشک تمہارا چرتربڑا ہے (ف۷۵)
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اے یوسف تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷۶) اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبّت اس کے دل میں پَیر گئی ہے ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّهِ مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَا إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    تو جب زلیخا نے ان کا چکروا سنا تو ان عورتوں کو بُلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لئے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دے دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸۴) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸۶) اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے (ف۸۷) اور بولیں اللّٰہ کو پاکی ہے یہ تو جنسِ بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزّز فرشتہ
قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    زلیخا نے کہا تو یہ ہیں وہ جن پر تم مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلّت اٹھائیں گے (ف۹۱)
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یوسف نے عرض کی اے میرے رب مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مَکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا
فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    تو اس کے رب نے اس کی سُن لی اور اس سے عورتوں کا مَکر پھیردیا بیشک وہی ہے سنتا جانتا (ف۹۳)
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّن بَعْدِ مَا رَأَوُاْ الآيَاتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مَت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں (ف۹۴)
وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانَ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الآخَرُ إِنِّي أَرَانِي أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹۶) بولا میں نے خواب دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتایے بیشک ہم آپ کو نیکوکار دیکھتے ہیں (ف۹۹)
قَالَ لاَ يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلاَّ نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيكُمَا ذَلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَهُم بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللّٰہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکِر ہیں
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَآئِـي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَا أَن نُّشْرِكَ بِاللّهِ مِن شَيْءٍ ذَلِكَ مِن فَضْلِ اللّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللّٰہ کا شریک ٹھہرائیں یہ (ف۱۰۲) اللّٰہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو کیا جدا جدا رب (۱۰۴) اچھے یا ایک اللّٰہ جو سب پر غالب (ف۱۰۵)
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلاَّ أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَآؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نِرے نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لئے ہیں (ف۱۰۶) اللّٰہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری حکم نہیں مگر اللّٰہ کا اس نے فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ قُضِيَ الأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا(ف۱۱۱) وہ سو لی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱۴) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بُھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱۶)
وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَى سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنبُلاَتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ يَا أَيُّهَا الْمَلأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انہیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اوردوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو میری خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آ تی ہو
قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الأَحْلاَمِ بِعَالِمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے
وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَاْ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنبُلاَتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ لَّعَلِّي أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اے یوسف اے صدیق ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)
قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲۴) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)
ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر اس کے بعد سات کَرّے برس آئیں گے (ف۱۲۶) کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے پہلے جمع کر رکھا تھا (ف۱۲۷) مگر تھوڑا جو بچالو (ف۱۲۸)
ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اوران عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَاْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بادشاہ نے کہااے عورتو تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا جی لبھانا چاہا بولیں اللّٰہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہ پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچّے ہیں (ف۱۳۴)
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یوسف نے کہا یہ میں نے اس لئے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللّٰہ دغا بازوں کا مَکر نہیں چلنے دیتا
وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو بُرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳۶) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مِكِينٌ أَمِينٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بادشاہ بولا انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے چُن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزّز معتمد ہیں (ف۱۳۹)
قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَآئِنِ الأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱۴۰)
وَكَذَلِكَ مَكَّنِّا لِيُوسُفَ فِي الأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاء نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَاء وَلاَ نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس مُلک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱۴۱) ہم اپنی رحمت (ف۱۴۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ ضائع نہیں کرتے
وَلَأَجْرُ الآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور بیشک آخرت کا ثواب اُن کے لئے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱۴۳)
وَجَاء إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنكِرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں (ف۱۴۴) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِي بِأَخٍ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّي أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَاْ خَيْرُ الْمُنزِلِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱۴۶) کیا اپنا سوتیلا بھائی (ف۱۴۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ماپتا ہوں (ف۱۴۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِي وَلاَ تَقْرَبُونِ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لئے میرے یہاں ماپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا
قَالُواْ سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ اجْعَلُواْ بِضَاعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَا إِذَا انقَلَبُواْ إِلَى أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خررجیوں میں رکھ دو (ف۱۴۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں
فَلَمَّا رَجِعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُواْ يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے
قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلاَّ كَمَا أَمِنتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِن قَبْلُ فَاللّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللّٰہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان
وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَاعَهُمْ وَجَدُواْ بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُواْ يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي هَـذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں یہ ہے ہماری پونجی کہ ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لئے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بو جھ اور زیادہ پائیں یہ دینا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵۴)
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلاَّ أَن يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللّٰہ کا یہ عہد نہ دے دو(ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گِھرجاؤ (ف۱۵۶) پھرجب انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللّٰہ کا ذمّہ ہے ان باتوں پر جو ہم کہہ رہے ہیں
وَقَالَ يَا بَنِيَّ لاَ تَدْخُلُواْ مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُواْ مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللّهِ مِن شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور کہا اور میرے بیٹو(ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروازوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللّٰہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱۶۰) حکم تو سب اللّٰہ ہی کا ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہئے
وَلَمَّا دَخَلُواْ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِي عَنْهُم مِّنَ اللّهِ مِن شَيْءٍ إِلاَّ حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱۶۱) وہ کچھ انہیں اللّٰہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۶۲)
وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَى يُوسُفَ آوَى إِلَيْهِ أَخَاهُ قَالَ إِنِّي أَنَاْ أَخُوكَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱۶۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱۶۴) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱۶۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱۶۶)
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب ان کا سامان مہیّا کردیا (ف۱۶۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱۶۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو بیشک تم چور ہو
قَالُواْ وَأَقْبَلُواْ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے
قَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَن جَاء بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَاْ بِهِ زَعِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں
قَالُواْ تَاللّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے خدا کی قسم تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور
قَالُواْ فَمَا جَزَآؤُهُ إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو (ف۱۶۹)
قَالُواْ جَزَآؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاء أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاء أَخِيهِ كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلاَّ أَن يَشَاء اللّهُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مِّن نَّشَاء وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    تو اول ان کی خرجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷۴) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷۶) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)
قَالُواْ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا وَاللّهُ أَعْلَمْ بِمَا تَصِفُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے ایک بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو
قَالُواْ يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اے عزیز اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں
قَالَ مَعَاذَ اللّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلاَّ مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ إِنَّـآ إِذًا لَّظَالِمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم لیں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸۴) جب تو ہم ظالم ہوں گے
فَلَمَّا اسْتَيْأَسُواْ مِنْهُ خَلَصُواْ نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُواْ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الأَرْضَ حَتَّىَ يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے اُن کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللّٰہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللّٰہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸۶) اور اس کا حکم سب سے بہتر
ارْجِعُواْ إِلَى أَبِيكُمْ فَقُولُواْ يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)
وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا وَالْعِيْرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اس بستی سے پوچھ دیکھئیے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے اور ہم بیشک سچّے ہیں (ف۱۹۰)
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا تو اچھا صبر ہے قریب ہے کہ اللّٰہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے (ف۱۹۲) بیشک و ہی علم و حکمت والا ہے
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور ان سے منھ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹۴) وہ غصہ کھاتا رہا (ف۱۹۵)
قَالُواْ تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے خدا کی قسم آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جالگیں یا جان سے گزر جائیں
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللّٰہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹۶) اور مجھے اللّٰہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)
يَا بَنِيَّ اذْهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلاَ تَيْأَسُواْ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِنَّهُ لاَ يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اے بیٹو جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللّٰہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوبیشک اللّٰہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيْهِ قَالُواْ يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ إِنَّ اللّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بے قدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پوراناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللّٰہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)
قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰۴)
قَالُواْ أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَاْ يُوسُفُ وَهَـذَا أَخِي قَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَيْنَا إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيِصْبِرْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے کیا سچ مُچ آپ ہی یوسف ہیں کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بیشک اللّٰہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللّٰہ نیکوں کا نیگ ضائع نہیں کرتا (ف۲۰۶)
قَالُواْ تَاللّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے خدا کی قسم بیشک اللّٰہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)
قَالَ لاَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں اللّٰہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانو ں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)
اذْهَبُواْ بِقَمِيصِي هَـذَا فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    میرا یہ کُرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منھ پر ڈالو ان کی آنکھیں کُھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر میرے پاس لے آؤ
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سَٹھ گیا
قَالُواْ تَاللّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلاَلِكَ الْقَدِيمِ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بیٹے بولے خدا کی قسم آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں (ف۲۱۳)
فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱۴) اس نے وہ کُرتا یعقوب کے منھ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللّٰہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)
قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بولے اے ہمارے باپ ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہو ں گا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱۶)
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَى يُوسُفَ آوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُواْ مِصْرَ إِن شَاء اللّهُ آمِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں (ف۲۱۷) باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں (ف۲۱۸) داخل ہو اللّٰہ چاہے تو امان کے ساتھ(ف۲۱۹)
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بَي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاء بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاء إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ سب (ف۲۲۰) اس کے لئے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اُسے میرے رب نے سچّا کیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲۴)
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنُيَا وَالآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں(ف۲۲۵)
ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲۶) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)
وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ (ف۲۲۸) تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت
وَكَأَيِّن مِّن آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بے خبر رہتے ہیں
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللّٰہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)
أَفَأَمِنُواْ أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللّٰہ کا عذاب انہیں آ کر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    تم فرماؤ (ف۲۳۲)یہ میری راہ ہے میں اللّٰہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پرچلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں (ف۲۳۳) اور اللّٰہ کو پاکی ہے (ف۲۳۴) اور میں شریک کرنے والا نہیں
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِي الأَرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَدَارُ الآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَواْ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳۶) تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں
حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ جَاءهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَاء وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے اُن سے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲۴۰) اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے پھیرا نہیں جاتا
لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُوْلِي الأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۝
ترجمۂ کنزالایمان:    بیشک ان کی خبروں سے (ف۲۴۱) عقل مندوں کی آنکھیں کُھلتی ہیں (ف۲۴۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲۴۳) لیکن اپنے سے اگلے کاموں کی (ف۲۴۴) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصّل بیان اور مسلمانوں کے لئے ہدایت ورحمت